Important Article

Khwaja Garib Nawaz Aur imam Ahmad Raza

خواجہ غریب نواز اور امام احمد رضا
رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین

     امام احمدرضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جہاں ایک طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کو کیفر کردارتک پہنچایا تو دوسری طرف اولیائے کرام کی عقیدت و محبت لوگوں کے دلوں میں بٹھا دی۔ آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی کس قدر عظمت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص “اجمیر” کے ساتھ “شریف” نہ لکھتا تو آپ اُسے بُرا جانتے جیسا کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
“اجمیر شریف کے نام پاک کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اور ان تمام مواقع میں اس کا التزام کرنا اگر اس بنا پر ہے کہ حضور سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جلوہ افروزی حیات ظاہری و مزار پرانوارکو (جن کے سبب مسلمان اجمیر شریف کہتے ہیں) وجہ شرافت نہیں جانتا تو گمراہ بلکہ عدواللہ ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل فرماتاہے: من عادٰی لی ولیاً فقد اٰذنتہ بالحرب (یعنی جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے۔)”
“اور اگر یہ ناپاک التزام بربنائے کسل وکوتاہ قلمی ہے تو سخت بے برکتا اور فضل عظیم وخیر جسیم سے محروم ہے۔ “
پھر فرمایا:
“اور اس کا مبنٰی وہابیت ہے تو وہابیت کفرہے، اس کے بعد ایسی باتوں کی کیا شکایت؟ ع
ماعلی مثلہ بعد الخطاء”
فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۱۵ ص ۲۶۵
اسی طرح جس کا نام غلام معین الدین ہو اور اُسے کوئی صرف معین الدین کہے تو اس سے بھی آپ ناراض ہوتے اور فرماتے:
“اپنے نام سے غلام کا حذف اگر اس بنا پر ہے کہ حضور خواجہ خواجگان رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعنہم کا غلام بننے سے انکارواستکبار رکھتا ہے تو بدستور گمراہ اور بحکم حدیثِ مذکورہ عدواللہ ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم۔ قال اللہ تعالیٰ “الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین” (یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کیا گھمنڈ والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں) اور اگر بر بنائے وہابیت ہے کہ غلام اولیائے کرام بننے والوں کو مشرک اور غلام محی الدین اور غلام معین الدین کو شرک جانتا ہے تو وہابیہ خود زندیق، بے دین، کفارومرتدین ہیں۔ “وللکافرین عذاب مھین” (یعنی اور کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔)”
فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۱۵ ص ۲۶۶
اسی طرح کسی نے آپ سے پوچھا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دستگیر کہنا اور حضرت خواجہ معین الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غریب نواز کے لقب سے پکارنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے جو ارشاد فرمایا اسے پڑھ کر سمجھ میں آجاتا ہے کہ بزرگان دین اور محبوبان بارگاہ رب العالمین سے آپ کو کیسی عقیدت و محبت تھی۔ آپ نے فرمایا کہ:
“حضرت سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ضرور دستگیر ہیں اور حضرت سلطان الہند معین الحق والدین ضرور غریب نواز۔”
فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۹ ص ۱۰۵
سیدنا امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فضائل دعا میں دعا قبول ہونے کے مقامات میں خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مزار پاک کو بھی شمار فرمایا اور کتاب کے صفحہ نمبر ۳۲ پر فصل چہارم اَمکنۂ اِجابت میں اس کا ذکر یوں فرمایا:
“مرقدِ مبارک حضرت خواجہ غریب نواز معین الحق والدین چشتی قدس سرہ”

حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیوض وبرکات اور منکرین فیضان خواجہ غریب نواز کا ذکر کرتے ہوئے الملفوظ جلد ۳ ص ۴۴ میں فرمایا:
“حضرت خواجہ کے مزار سے بہت کچھ فیوض وبرکات حاصل ہوتے ہیں۔ مولانا برکات احمد صاحب مرحوم جو میرے پیر بھائی اور میرے والد ماجد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد تھے انہوںنے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ہندو جس کے سر سے پیر تک پھوڑے تھے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس قدر تھے۔ ٹھیک دوپہرکو آتا اور درگاہ شریف کے سامنے گرم کنکروں اور پتھروں پر لوٹتا اور کہتا کہ خواجہ اگن لگی ہے (یعنی آگ لگ رہی ہے) تیسرے روز میں نے دیکھا کہ بالکل اچھا ہوگیا۔”
اسی طرح ایک اور واقعہ بیان فرمایا:
“بھاگل پور سے ایک صاحب ہر سال اجمیر شریف جاتے تھے۔ ایک وہابی رئیس سے ملاقات تھی۔ اس نے کہا، میاں ہرسال کہاں جایا کرتے ہو؟ بے کار اتنا روپیہ صرف کرتے ہو انہوںنے کہا چلو اور انصاف کی آنکھ سے دیکھو۔ پھر تم کو اختیار ہے۔ خیر! ایک سال وہ ساتھ میں آیا دیکھا کہ ایک فقیر سونٹا لیے روضہ شریف کا طواف کررہاہے اور یہ صدا لگا رہاہے۔ خواجہ پانچ روپئے لوں گا۔ اور ایک گھنٹہ کے اندر لوں گا اور ایک ہی شخص سے لوں گا۔ جب اس وہابی کو خیال ہوا کہ اب بہت وقت گزر گیا۔ ایک گھنٹہ ہوگیا ہوگا اور اب تک اسے کسی نے کچھ نہ دیا، جیب سے پانچ روپئے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھے اور کہا لو میاں! تم خواجہ سے مانگ رہے تھے۔ بھلا خواجہ کیا دیں گے؟ لو ہم دیتے ہیں۔ فقیر نے وہ روپئے تو جیب میں رکھے اور ایک چکر لگا کر زور سے کہا: ’’خواجہ! تورے بلیاری جاؤں۔ دلوائے بھی تو کس خبیث منکر سے۔”
(الملفوظ حصہ سوم ص:۴۴، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
آئیے اب سیدنا امام احمد رضا کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں جن سے سرکار غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:

مزرع چشت و بخارا وعراق واجمیر
کون سی کشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا

اسی طرح ایک جگہ فرماتے ہیں:

یہ چشتی نقشبندی، سہروردی
ہر اک تیری طرف آئل ہے یا غوث
بخاراوعراق وچشت واجمیر
تیری لوشمع ہر محفل ہے یاغوث

یہ چند مثالیں تھیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا امام احمد رضا کو حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی عقیدت ومحبت تھی اور اسی کی تعلیم انھوں نے اپنے ماننے والوں کو دی مگر حاسدوں کا کیا جائے جنھیں یہ سب حقیقت نظر نہیں آتی اور جھوٹ پھیلانا ان کی عادت ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور تمام مسلمانوں کو اولیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Kya Aap Hamara Number Apne Mobile Me Save Nahi Kar Sakte?
(+91) 7887678611

Kya Aap Hamari Hausla Afzai Nahi Kar Sakte?
Koi Mashwara Ya Msg Dijiye Ya Kum Se Kum Apna WhatsApp No. Dijiye.


    🌻💐👉REQUEST👈💐🌻❤

    Hum Aap Se Guzarish Karte Hain Ke Niche Ka Button Daba Kar Kum Se Kum 5 Group Me Hamara Message Zarur Share Karen:-

    Ahem Deeni Kitaben Discount Rate Me Ghar Baithe Hasil Karne Ke Liye Click Kijiye:-

    Discount Books

    Ye Number Har WhatsApp Group Me Add Kijiye:
    (+91) 7391-8485-41